مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَمَّادٌ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، أخبرنا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: لَعَلَّهُ سَيُدْرِكُهُ مَنْ قَدْ رَآنِي وَسَمِعَ كَلَامِي , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ أَمِثْلُهَا الْيَوْمَ؟ قَالَ: أَوْ خَيْرٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”نوح کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں اس سے ڈراتا ہوں“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کی صفت بیان کی اور فرمایا: ”شاید اسے وہ شخص پائے جس نے مجھے دیکھا اور میری بات سنی“ لوگوں نے عرض کیا: اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے؟ کیا اسی طرح جیسے آج ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے بھی بہتر“ (کیونکہ فتنہ و فساد کے باوجود ایمان پر قائم رہنا زیادہ مشکل ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الفتن 55 (2234)، (تحفة الأشراف: 5046) (ضعیف)» (اس کے راوی عبداللہ بن سراقہ ازدی کا سماع ابوعبیدہ بن جراح سے نہیں ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (5486)
أخرجه الترمذي (2234 وسنده حسن)
الحكم: ضعيف