بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 4752 — باب: ترازو کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: سنتوں کا بیان باب: ترازو کا بیان۔ حدیث 4752
حدیث نمبر: 4752 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أخبرنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بِمِثْلِ هَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: فَذَكَرَ قَرِيبًا مِنْ حَدِيثِ الْأَوَّلِ، قَالَ فِيهِ: وَأَمَّا الْكَافِرُ، وَالْمُنَافِقُ، فَيَقُولانِ لَهُ: زَادَ الْمُنَافِقَ، وَقَالَ: يَسْمَعُهَا مَنْ وَلِيَهُ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالوہاب سے اسی جیسی سند سے اس طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: جب بندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے رشتہ دار واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے، اتنے میں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اس سے کہتے ہیں پھر انہوں نے پہلی حدیث کے قریب قریب بیان کیا، اور اس میں اس طرح ہے: رہے کافر اور منافق تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں راوی نے منافق کا اضافہ کیا ہے اور اس میں ہے: اسے ہر وہ شخص سنتا ہے جو اس کے قریب ہوتا ہے، سوائے آدمی اور جن کے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3231)، (تحفة الأشراف: 1170) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: مردہ واپس لوٹنے والوں کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے کیونکہ وہ نیچے زمین میں ہے اور چلنے والے اوپر چل رہے ہوتے ہیں، ان کی بات چیت نہیں سنتا کیونکہ قبر پر آواز جانے کا کوئی ذریعہ نہیں، اس سے سماع موتیٰ پر استدلال کرنا محض غلط ہے، کیونکہ لوٹنے والوں کی بات سننے کا ذکر اس حدیث میں نہیں ہے، لہذا جوتیوں کی دھمک سننے سے بات چیت کے سننے کا اثبات غلط ہے، نیز حدیث میں اس خاص موقع پر مردوں کے سننے کی یہ بات آئی ہے، جیسے غزوہ بدر میں قریش کے مقتولین جو بدر کے کنویں میں ڈال دئیے گئے تھے، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو مخاطب کیا تھا یہ بھی مخصوص صورت حال تھی، اس طرح کے واقعات سے مردوں کے عمومی طور پر سننے پر استدلال صحیح نہیں ہے، دلائل کی روشنی میں صحیح بات یہی ہے کہ مردے سنتے نہیں ہیں، (ملاحظہ ہو علامہ آلوسی کی کتاب: کیا مردے سنتے ہیں؟ نیز مولانا عبداللہ بھاولپوری کا رسالہ سماع موتی
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1338) صحيح مسلم (2870)
وانظر الحديث السابق (3231)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (4751) باب پر واپس اگلی حدیث (4753) →