عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِي ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، أخبرنا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: أخبرنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" لَمَّا عُرِجَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَّةِ، أَوْ كَمَا قَالَ: عُرِضَ لَهُ نَهْرٌ حَافَتَاهُ الْيَاقُوتُ الْمُجَيَّبُ، أَوْ قَالَ: الْمُجَوَّفُ، فَضَرَبَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعَهُ يَدَهُ، فَاسْتَخْرَجَ مِسْكًا، فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَلَكِ الَّذِي مَعَهُ: مَا هَذَا؟ , قَالَ: الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج میں جنت میں لے جایا گیا تو آپ کے سامنے ایک نہر لائی گئی، جس کے دونوں کنارے «مجیّب» یا کہا «مجوّف» (خول دار) یاقوت کے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جو فرشتہ تھا اس نے اپنا ہاتھ مارا اور اندر سے مشک نکالی، تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھ والے فرشتے سے پوچھا یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہی کوثر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1234)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 53 (6581)، التوحید 37 (7516) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (4964)
الحكم: صحيح