بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 4745 — باب: قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: سنتوں کا بیان باب: قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان۔ حدیث 4745
حدیث نمبر: 4745 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُسَدَّدٌ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: أخبرنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا، مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سامنے (قیامت کے دن) ایک حوض ہو گا، جس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا «جرباء» اور «اذرح» ۱؎ کے درمیان ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الفضائل 9 (2299)، (تحفة الأشراف: 7538)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 53 (6577)، مسند احمد (2/21، 6/125) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: «جرباء» اور «اذرح» نام ہیں شام میں دو گاؤں کے ان کے درمیان تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہے۔
۲؎: حوض کے حدود کے بارے میں مختلف بیانات وارد ہیں، ان سے تحدید مقصود نہیں بلکہ مسافت کا طول مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2299)
وأصله عند البخاري (6577)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (4744) باب پر واپس اگلی حدیث (4746) →