أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أخبرنا أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ، مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3086) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: عمدہ گھوڑے کی چال سے جیسا کہ دوسری حدیث میں مروی ہے، اس حدیث کا مقصود حاملین عرش کا طول و عرض اور عظمت و جثہ بتانا ہے، اور ستر کا عدد بطور تحدید نہیں ہے بلکہ اس سے کثرت مراد ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5728)
أخرجه ابن طھمان (21 وسنده صحيح/معاذ)
الحكم: صحيح