هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، سُفْيَانُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، أخبرنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ: هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ ایک دوسرے سے برابر سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا، اللہ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا تم میں سے کسی کو اس سلسلے میں اگر کوئی شبہ گزرے تو وہ یوں کہے: میں اللہ پر ایمان لایا“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4721]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3276)، صحیح مسلم/الإیمان 60 (134)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (662)، (تحفة الأشراف: 14160)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/331) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اگر آدمی کو کوئی اس طرح کا شیطانی وسوسہ لاحق ہو تو اس کو دور کرنے اور ذہن سے جھٹکنے کی پوری کوشش کرے اور یوں کہے: میں اللہ پر ایمان لا چکا ہوں، صحیحین کی روایت میں ہے: میں اللہ و رسول پر ایمان لا چکا ہوں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح م خ نحوه بلفظ فليتعذ بالله ولينته
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (3276) صحيح مسلم (134)
مشكوة المصابيح (75)
الحكم: صحيح م خ نحوه بلفظ فليتعذ بالله ولينته