إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَبِي ، عَامِرٍ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، أَبِي ، أَبُو إِسْحَاق ، عَامِرًا ، عَلْقَمَةَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الْوَائِدَةُ وَالْمَوْءُودَةُ فِي النَّارِ"، قَالَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا: قَالَ أَبِي، فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُ بِذَلِكَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عامر شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ” «وائدہ» (زندہ درگور کرنے والی) اور «مؤودہ» (زندہ درگور کی گئی دونوں) جہنم میں ہیں“ ۱؎۔ یحییٰ بن زکریا کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ہے کہ عامر شعبی نے ان سے اسے بیان کیا ہے، وہ علقمہ سے اور علقمہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ابن مسعود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9466) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «وائدہ» اور «مؤودہ» سے کیا مراد ہے؟ بعض محدثین نے «وائدہ» سے زندہ درگور کرنے والی عورت، اور «مؤودہ» سے زندہ درگور کی گئی بچی مراد لی ہے، اس صورت میں ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ ایک خاص بچی کے بارے میں فرمایا، یہ حکم عام نہیں ہے، بعض محدثین کے نزدیک «وائدہ» سے مراد زندہ درگور کرنے والی عورت، اور «مؤودہ» سے مراد وہ عورت ہے جو اپنی بچی کو زندہ درگور کرنے پر راضی ہو، اس صورت میں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
مشكوة المصابيح (112)
أخرجه الطبراني في الكبير (10/114 ح10059 وسنده صحيح) من حديث عبد الله بن مسعود رضي الله عنه به
الحكم: صحيح