مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، الْفِرْيَابِيُّ ، سُفْيَانَ ، عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، ابْنِ يَعْمَرَ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ ابْنِ يَعْمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، قَالَ: فَمَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: إِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَحَجُّ الْبَيْتِ وَصَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ وَالِاغْتِسَالُ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَلْقَمَةُ مُرْجِئٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یحییٰ بن یعمر سے یہی حدیث کچھ الفاظ کی کمی اور بیشی کے ساتھ مروی ہے اس نے پوچھا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، بیت اللہ کا حج، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور جنابت لاحق ہونے پر غسل کرنا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: علقمہ مرجئی ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10572) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (4695)
الحكم: صحيح