أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، شُعْبَةُ ، وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«* تخريج:صحیح البخاری/المغازي 77 (4402)، الأدب 95 (6166)، الحدود 9 (6785)، الدیات 2 (6868)، الفتن 8 (7077)، صحیح مسلم/الإیمان 29 (66)، سنن النسائی/المحاربة 25 (4130)، سنن ابن ماجہ/الفتن 5 (2943)، (تحفة الأشراف: 7418)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/85، 87، 104، 135) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں ایک دوسرے کی گردن مارنے کو ایمان کے منافی قرار دیا، حدیث کا معنی یہ ہے کہ: میرے بعد فرقہ بندی میں پڑ کر ایک دوسرے کی گردن مت مارنے لگ جانا کہ یہ کام کافروں کے مشابہ ہے کیونکہ کافر آپس میں دشمن اور مومن آپس میں بھائی ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6868) صحيح مسلم (66)
الحكم: صحيح