مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ ، مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ، فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ ہی کے رضا کے لیے محبت کی، اللہ ہی کے رضا کے لیے دشمنی کی، اللہ ہی کے رضا کے لیے دیا، اللہ ہی کے رضا کے لیے منع کر دیا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4903) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں اعمال کو ایمان کی تکمیل کا سبب قرار دیا گویا ان اعمال کی کمی ایمان کی کمی ٹھہری، پتہ چلا ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (30)
الحكم: صحيح