أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بندے اور کفر کے درمیان حد فاصل نماز کا ترک کرنا ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الإیمان 9 (2620)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 77 (1078)، مسند احمد (3/370، 389)، (تحفة الأشراف: 2746)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان 35 (82) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی کفر اور بندے میں نماز حد فاصل ہے، اگر نماز ادا کرتا ہے تو صاحب ایمان ہے، نہیں ادا کرتا ہے تو کافر ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی عمل کے ترک کو کفر نہیں خیال کرتے تھے سوائے نماز کے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”نماز کا ترک کرنا کفر ہے“، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں جو نماز چھوڑ دے، امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: تارک نماز مرتد ہے اگرچہ دین سے خارج نہیں ہوتا، اصحاب الرای کا مذہب ہے کہ اس کو قید کیا جائے تاوقتیکہ نماز پڑھنے لگے، امام احمد بن حنبل، اور امام اسحاق بن راہویہ، اور ائمہ کی ایک بڑی جماعت تارک نماز کو کافر کہتی ہے، اس لئے ہر مسلمان کو اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے نماز کا سخت اہتمام کرنا چاہئے، اور عام لوگوں میں اس عظیم عبادت، اور اسلامی رکن کی اہمیت کی تبلیغ کرنی چاہئے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
رواه مسلم (82)
الحكم: صحيح