عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَبِي ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى ، أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبُو دَاوُدَ ، حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يُودَى، أَوْ يُقَادَ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبْ لِي، قَالَ الْعَبَّاسُ: اكْتُبُوا لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اكْتُبُوا لِأَبِي شَاةٍ"، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: اكْتُبُوا لِي يَعْنِي خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: ”جس کا کوئی قتل کیا گیا تو اسے اختیار ہے یا تو دیت لے لے، یا قصاص میں قتل کرے“ یہ سن کر یمن کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے ابوشاہ کہا جاتا تھا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے یہ لکھ دیجئیے (عباس بن ولید کی روایت «اکتب لی» کے بجائے «اکتبوا لی» یہ صیغۂ جمع ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ابو شاہ کے لیے لکھ دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اکتبوا لی» سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خطبہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: (2017)، (تحفة الأشراف: 15383، 15365) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2434، 6880) صحيح مسلم (1355)
الحكم: صحيح