بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 4501 — باب: امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: دیتوں کا بیان باب: امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟ حدیث 4501
حدیث نمبر: 4501 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ، عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ ، يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ الْوَاسِطِيُّ ، سِمَاكٍ ، عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَبَشِيٍّ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا قَتَلَ ابْنَ أَخِي، قَالَ: كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: ضَرَبْتُ رَأْسَهُ بِالْفَأْسِ وَلَمْ أُرِدْ قَتْلَهُ، قَالَ: هَلْ لَكَ مَالٌ تُؤَدِّي دِيَتَهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ أَرْسَلْتُكَ تَسْأَلُ النَّاسَ تَجْمَعُ دِيَتَهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَوَالِيكَ يُعْطُونَكَ دِيَتَهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ لِلرَّجُلِ: خُذْهُ، فَخَرَجَ بِهِ لِيَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنَّهُ إِنْ قَتَلَهُ كَانَ مِثْلَهُ، فَبَلَغَ بِهِ الرَّجُلُ حَيْثُ يَسْمَعُ قَوْلَهُ، فَقَالَ: هُوَ ذَا فَمُرْ فِيهِ مَا شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْسِلْهُ، وَقَالَ مَرَّةً: دَعْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِ صَاحِبِهِ وَإِثْمِهِ فَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ، قَالَ: فَأَرْسَلَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص ایک حبشی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اس نے میرے بھتیجے کو قتل کیا ہے، آپ نے اس سے پوچھا: تم نے اسے کیسے قتل کر دیا؟ وہ بولا: میں نے اس کے سر پر کلہاڑی ماری اور وہ مر گیا، میرا ارادہ اس کے قتل کا نہیں تھا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس مال ہے کہ تم اس کی دیت ادا کر سکو اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: بتاؤ اگر میں تمہیں چھوڑ دوں تو کیا تم لوگوں سے مانگ کر اس کی دیت اکٹھی کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے مالکان اس کی دیت ادا کر دیں گے؟ اس نے کہا: نہیں، تب آپ نے اس شخص (مقتول کے وارث) سے فرمایا: اسے لے جاؤ جب وہ اسے قتل کرنے کے لیے لے کر چلا تو آپ نے فرمایا: اگر یہ اس کو قتل کر دے گا تو اسی کی طرح ہو جائے گا وہ آپ کی بات سن رہا تھا جب اس کے کان میں یہ بات پہنچی تو اس نے کہا: وہ یہ ہے، آپ جو چاہیں اس کے سلسلے میں حکم فرمائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، وہ اپنا اور تمہارے بھتیجے کا گناہ لے کر لوٹے گا اور جہنمیوں میں سے ہو گا چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4501]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4499)، (تحفة الأشراف: 11769) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديثين السابقين (4499، 4500)
الحكم: صحيح لغيره
← پچھلی حدیث (4500) باب پر واپس اگلی حدیث (4502) →