مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ ، مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، هِشَامٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ الْمَعْنَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَدَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ، فَلَمَّا وُلِّيَ عُمَرُ دَعَا النَّاسَ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ دَنَوْا مِنَ الرِّيفِ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: مِنَ الْقُرَى وَالرِّيفِ فَمَا تَرَوْنَ فِي حَدِّ الْخَمْرِ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: نَرَى أَنْ تَجْعَلَهُ كَأَخَفِّ الْحُدُودِ فَجَلَدَ فِيهِ ثَمَانِينَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَلَدَ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ أَرْبَعِينَ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ضَرَبَ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شراب پینے پر کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے مارا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے لوگوں کو بلایا، اور ان سے کہا: لوگ گاؤں سے قریب ہو گئے ہیں (اور مسدد کی روایت میں ہے) بستیوں اور گاؤں سے قریب ہو گئے ہیں (یعنی شراب زیادہ پینے لگے ہیں) تو اب شراب کی حد کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو عبدالرحمٰن بن عوف نے ان سے کہا: ہماری رائے یہ ہے کہ سب سے ہلکی جو حد ہے وہی آپ اس میں مقرر کر دیں، چنانچہ اسی (۸۰) کوڑے مارنے کا حکم ہوا (کیونکہ سب سے ہلکی حد یہی حدقذف تھی)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے چالیس مار ماریں۔ اور اسے شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے کھجور کی دو ٹہنیوں سے چالیس کے قریب مار ماریں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحدود 2 (6773)، صحیح مسلم/الحدود 8 (1706)، سنن الترمذی/الحدود 14 (1443)، سنن ابن ماجہ/الحدود 16 (2570)، (تحفة الأشراف: 1352)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/115، 180)، سنن الدارمی/الحدود 9 (2357) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6773) صحيح مسلم (1706)
الحكم: صحيح