مُسَدَّدٌ ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُطَرِّفٌ ، أَبِي الْجَهْمِ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" بَيْنَا أَنَا أَطُوفُ عَلَى إِبِلٍ لِي ضَلَّتْ إِذْ أَقْبَلَ رَكْبٌ أَوْ فَوَارِسُ مَعَهُمْ لِوَاءٌ، فَجَعَلَ الْأَعْرَابُ يَطِيفُونَ بِي لِمَنْزِلَتِي مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَتَوْا قُبَّةً فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهَا رَجُلًا فَضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَذَكَرُوا أَنَّهُ أَعْرَسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک گمشدہ اونٹ کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اسی دوران کچھ سوار آئے، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، تو دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے میری قربت کی وجہ سے میرے اردگرد گھومنے لگے، اتنے میں وہ ایک قبہ کے پاس آئے، اور اس میں سے ایک شخص کو نکالا اور اس کی گردن مار دی، تو میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الأحکام 25 (1362)، سنن النسائی/النکاح 58 (3333)، سنن ابن ماجہ/الحدود 35 (2607)، (تحفة الأشراف: 15534، 1766)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/292، 295، 297)، سنن الدارمی/النکاح 43 (2285) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3172)
الحكم: صحيح