حُدِّثْتُ ، عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، زَكَرِيَّا بْنُ سُلَيْمٍ
قَالَ أَبُو دَاوُد: حُدِّثْتُ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ سُلَيْمٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، زَادَ ثُمَّ رَمَاهَا بِحَصَاةٍ مِثْلَ الْحِمِّصَةِ، ثُمَّ قَالَ: ارْمُوا وَاتَّقُوا الْوَجْهَ، فَلَمَّا طَفِئَتْ أَخْرَجَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَقَالَ فِي التَّوْبَةِ نَحْوَ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوداؤد کہتے ہیں مجھ سے یہ حدیث عبدالصمد بن عبدالوارث کے واسطہ سے بیان کی گئی ہے، زکریا بن سلیم نے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے چنے کے برابر ایک کنکری سے مارا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مارو لیکن چہرے کو بچا کر مارنا“ پھر جب وہ مر گئی تو آپ نے اسے نکالا، پھر اس پر نماز پڑھی، اور توبہ کے سلسلہ میں ویسے ہی فرمایا جیسے بریدہ کی روایت میں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11684) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
شيخ أبي داود مجھول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157
الحكم: ضعيف الإسناد