مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، وُهَيْبٌ ، خَالِدٍ ، أَبِي الضُّحَى ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَ فِيهِ وَالْخَرِفِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی علیہ السلام کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے قاسم بن یزید سے انہوں نے علی علیہ السلام سے، علی علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اس میں ”کھوسٹ بوڑھے“ کا اضافہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10277)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/116، 140) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
السند منقطع
أبو الضحي لم يدرك عليًا رضي اللّٰه عنه
وصح موقوفًا كما تقدم (4400)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
الحكم: صحيح