مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، أَبُو صَالِحٍ ، اللَّيْثِ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:" اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ تَعْنِي حُلِيًّا عَلَى أَلْسِنَةِ أُنَاسٍ يُعْرَفُونَ وَلَا تُعْرَفُ هِيَ فَبَاعَتْهُ فَأُخِذَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِ يَدِهَا وَهِيَ الَّتِي شَفَعَ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بیان کرتے تھے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ایک عورت نے جسے کوئی نہیں جانتا تھا چند معروف لوگوں کی شہادت اور ذمہ داری پر ایک زیور منگنی لی اور اسے بیچ کر کھا گئی تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، یہ وہی عورت ہے جس کے سلسلہ میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تھی، اور اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جو فرمانا تھا فرمایا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4396]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«* تخريج:صحیح البخاری/الشہادات 8 (2648)، الحدود 15 (6800)، صحیح مسلم/الحدود 2 (1688)، سنن النسائی/قطع السارق 5 (4906)، (تحفة الأشراف: 16694)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/162) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2648) صحيح مسلم (1688)
الحكم: صحيح