عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، خَالِدٌ ، حُصَيْنٍ ، ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حَيْثُ شَاءَ، وَرَدَّهَا حَيْثُ شَاءَ، قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ. فَقَامُوا فَتَطَهَّرُوا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یوں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا روکے رکھا، اور جب چاہا انہیں چھوڑ دیا، تم اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو“، چنانچہ سب اٹھے اور سب نے وضو کیا یہاں تک کہ جب سورج چڑھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/مواقیت الصلاة 35 (595)، سنن النسائی/الإمامة 47 (847)، (تحفة الأشراف: 12096) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (7471)
الحكم: صحيح