مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو بَكْرٍ ، مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الْمُوصِلِيُّ ، عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ ، الْعُرْسِ ابْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الْمُوصِلِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ الْعُرْسِ ابْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الْأَرْضِ كَانَ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا، وَقَالَ: مَرَّةً أَنْكَرَهَا كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عرس بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمین پر گناہ کے کام کئے جاتے ہوں تو جو شخص وہاں حاضر رہا اور اسے ناپسند کیا یا برا جانا اس کی مثال اس شخص کے مانند ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہ ہو، اور جو شخص وہاں حاضر نہ تھا لیکن اسے پسند کیا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو وہاں حاضر تھا“ (یعنی اسے بھی گناہ سے رضا مندی کے باعث گناہ ملے گا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9894) (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5141)
الحكم: حسن