بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 407 — باب: عصر کے وقت کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: عصر کے وقت کا بیان۔ حدیث 407
الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ عُرْوَةُ: وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ دھوپ میرے حجرے میں ہوتی، ابھی دیواروں پر چڑھی نہ ہوتی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/المواقیت 1 (522)، 13 (544)، والخمس 4 (3103)، صحیح مسلم/المساجد 31 (612)، (تحفة الأشراف: 16596)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 6 (109)، سنن النسائی/المواقیت 7 (506)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 5 (683)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1(2) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
حجرہ عربی زبان میں گھر کے ساتھ گھرے ہوئے آنگن کو بھی کہتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے صحن کی دیواریں چھوٹی ہی تھیں اس لیے دھوپ ابھی آنگن ہی میں ہوتی تھی۔ مشرقی دیوار پر چڑھتی نہ تھی کہ عصر کا وقت ہو جاتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اول وقت میں نماز عصر پڑھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (522) صحيح مسلم (611)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (406) باب پر واپس اگلی حدیث (408) →