أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: حُلَّةُ إِسْتَبْرَقٍ، وَقَالَ: فِيهِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ، وَقَالَ: تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے لیکن اس میں ”دھاری دار ریشمی جوڑے“ کے بجائے ”موٹے ریشم کا جوڑا ہے“ نیز اس میں ہے: پھر آپ نے انہیں دیباج ایک جوڑا بھیجا، اور فرمایا: ”اسے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4041]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: (1077)، (تحفة الأشراف: 6895) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2054) صحيح مسلم (2068)
الحكم: صحيح