مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، قَتَادَةُ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا فِي مَمْلُوكِهِ، فَعَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَهُ كُلَّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ وَإِلَّا اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے مکمل خلاصی دلائے اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اور شریکوں کے حصوں کے بقدر اس سے محنت کرائی جائے گی، بغیر اسے مشقت میں ڈالے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: (3934)، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
وانظر الحديث السابق (3934)
الحكم: صحيح