مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ ، رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ"، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قتادہ اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے کسی ایسے غلام کو جو اس کے اور کسی اور کے درمیان مشترک ہے آزاد کیا تو اس کے ذمہ اس کی مکمل خلاصی ہو گی ۱؎“، یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی دوسرے شریک کے حصہ کی قیمت بھی اسی کو ادا کرنی ہو گی۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1502)
وانظر الحديث السابق (3934)
الحكم: صحيح