الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، جُدَامَةَ الأَسَدِيَّةِ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ جُدَامَةَ الأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذُكِّرْتُ أَنَّ الرُّومَ، وَفَارِسَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ"، قَالَ مَالِكٌ: الْغِيلَةُ أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جدامہ اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے قصد کر لیا تھا کہ «غیلہ» سے منع کر دوں پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچتا“۔ مالک کہتے ہیں: «غیلہ» یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے حالت رضاعت میں جماع کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3882]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/النکاح 24 (1442)، سنن الترمذی/الطب 27 (2076)، سنن النسائی/النکاح 54 (3328)، سنن ابن ماجہ/النکاح 6 (2011)، (تحفة الأشراف: 15786)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الرضاع 3 (16)، مسند احمد (6/361، 434)، سنن الدارمی/النکاح 33 (2263) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: پہلی حدیث سے «غیلہ» یعنی عورت بچے کو دودھ پلا رہی ہو تو ان دنوں میں جماع کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، اور دوسری حدیث سے جواز نکلتا ہے، مگریہ اسی صورت میں ہے کہ اولاد کو نقصان پہنچنے کا ڈر نہ ہو، اگر نقصان پہنچنے کا ڈر ہو تو ایسا کرنا ناجائز ہو گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1442)
الحكم: صحيح