إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، سَعْدٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ:" مَرِضْتُ مَرَضًا أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلَى فُؤَادِي، فَقَالَ: إِنَّكَ رَجُلٌ مَفْئُودٌ، ائْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلَدَةَ أَخَا ثَقِيفٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَتَطَبَّبُ، فَلْيَأْخُذْ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةَ الْمَدِينَةِ، فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ، ثُمَّ لِيَلُدَّكَ بِهِنَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری عیادت کے لیے آئے، آپ نے میری دونوں چھاتیوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں دل کی بیماری ہے حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ جو قبیلہ ثقیف کے ہیں، وہ دوا علاج کرتے ہیں، ان کو چاہیئے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سات کھجوریں لیں اور انہیں گٹھلیوں سمیت کوٹ ڈالیں پھر اس کا «لدود» بنا کر تمہارے منہ میں ڈالیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3875]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3916) (ضعیف) (مجاہد کا سعد رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن أبي نجيح عنعن وفي سماع مجاهد من سعد بن أبي وقاص رضي اللّٰه عنه نظر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
الحكم: ضعيف