عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، امْرَأَةٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنَةً، فَكَيْفَ نَفْعَلُ إِذَا مُطِرْنَا؟ قَالَ:" أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا؟. قَالَتْ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَهَذِهِ بِهَذِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قبیلہ بنو عبدالاشھل کی ایک عورت کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا مسجد تک جانے کا راستہ غلیظ اور گندگیوں والا ہے تو جب بارش ہو جائے تو ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے آگے پھر کوئی اس سے بہتر اور پاک راستہ نہیں ہے؟“، میں نے کہا: ہاں ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ اس کا جواب ہے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الطھارة 79 (533)،(تحفة الأشراف: 18380)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/435) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی پاک و صاف راستے میں چلنے سے کپڑا پاک ہو جائے گا جیسے پہلے گندے راستہ سے ناپاک ہو گیا تھا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (512)
الحكم: صحيح