مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، هَمَّامٌ ، إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالتَّمْرِ فِيهِ دُودٌ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کھجور لایا جاتا جس میں کیڑے (سرسریاں) ہوتے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 215) (صحیح)» (یہ مرسل ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
انظر الحديث السابق (3832)
الحكم: صحيح