مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، إِسْمَاعِيل ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ: إِنَّ أَخَاهُ أَوْ عَمَّهُ، وَقَالَ مُؤَمَّل: إِنَّهُ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: جِيرَانِي بِمَا أُخِذُوا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ"، لَمْ يَذْكُرْ مُؤَمَّلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ابن قدامہ کی روایت میں ہے کہ ان کے بھائی یا ان کے چچا اور مومل کی روایت میں ہے وہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو یہ کہنے لگے: کس وجہ سے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا گیا ہے؟ تو آپ نے ان سے دو مرتبہ منہ پھیر لیا پھر انہوں نے کچھ ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو“ اور مومل نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11389) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن الإسناد