بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3596 — باب: گواہیوں کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل باب: گواہیوں کا بیان۔ حدیث 3596
حدیث نمبر: 3596 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمَدَانِيُّ ، وأَحْمَدُ بْنُ السَّرْحِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَبَاهُ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمَدَانِيُّ، وأَحْمَدُ بْنُ السَّرْحِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ أَوْ يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا" شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَيَّتَهُمَا، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَالِكٌ: الَّذِي يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ وَلَا يَعْلَمُ بِهَا الَّذِي هِيَ لَهُ، قَالَ الْهَمَدَانِيُّ: وَيَرْفَعُهَا إِلَى السُّلْطَانِ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: أَوْ يَأْتِي بِهَا الْإِمَامَ وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ الْهَمَدَانِيِّ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ، لَمْ يَقُلْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بہتر گواہ نہ بتاؤں؟ جو اپنی گواہی لے کر حاضر ہو یا فرمایا: اپنی گواہی پیش کرے قبل اس کے کہ اس سے پوچھا جائے ۱؎۔ عبداللہ بن ابی بکر نے شک ظاہر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «الذي يأتي بشهادته» فرمایا، یا «يخبر بشهادته» کے الفاظ فرمائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: ایسا گواہ مراد ہے جو اپنی شہادت پیش کر دے اور اسے یہ علم نہ ہو کہ کس کے حق میں مفید ہے اور کس کے حق میں غیر مفید۔ ہمدانی کی روایت میں ہے: اسے بادشاہ کے پاس لے جائے، اور ابن السرح کی روایت میں ہے: اسے امام کے پاس لائے۔ لفظ «اخبار» ہمدانی کی روایت میں ہے۔ ابن سرح نے اپنی روایت میں صرف «ابن ابی عمرۃ» کہا ہے، عبدالرحمٰن نہیں کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3596]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الأقضیة 9 (1719)، سنن الترمذی/الشھادات 1 (2296)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 28 (2364)، (تحفة الأشراف: 3754)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 2(3) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی حقوق اللہ جیسے طلاق، عتق (غلام کی آزادی) اور وقف وغیرہ میں، یا جب مدعی سچا اور برحق ہو اور اسے گواہ نہ ملتا ہو اور کسی شخص کو اس کے حق کا حال معلوم ہو تو وہ شخص خود بخود جا کر حاکم اور قاضی کے پاس گواہی دے تاکہ صاحب معاملہ کی حق تلفی نہ ہو، اس قسم کی گواہی باعث اجر و ثواب ہے، زیر نظر حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ ایک قوم ایسی پیدا ہو گی جو پوچھے جانے سے پہلے گواہی دے گی کیونکہ اس سے مراد جھوٹی گواہی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1719)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3595) باب پر واپس اگلی حدیث (3597) →