إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، عِيسَى ، أُسَامَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيث، قَالَ: يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ وَأَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ، فَقَالَ: إِنِّي إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِرَأْيِي فِيمَا لَمْ يُنْزَلْ عَلَيَّ فِيهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہ دونوں ترکہ اور کچھ چیزوں کے متعلق جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہو چکی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں جس میں مجھ پر کوئی حکم نہیں نازل کیا گیا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3585]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 18174) (صحیح)» (سابقہ حدیث کا نوٹ ملاحظہ ہو)
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (3770)
انظر الحديث السابق (3584)
الحكم: ضعيف