مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، الْحَسَنَ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ يَذْكُرُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ:"مَا كَانَ لِإِحْدَانَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ فِيهِ، فَإِنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ بَلَّتْهُ بِرِيقِهَا ثُمَّ قَصَعَتْهُ بِرِيقِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے کسی کے پاس سوائے ایک کپڑے کے کوئی اور کپڑا نہیں ہوتا تھا، اسی کپڑے میں اسے حیض (بھی) آتا تھا، اگر اس میں (حیض کا) کچھ خون لگ جاتا تو وہ اپنے تھوک سے اسے تر کرتی پھر اسے تھوک کے ذریعہ ناخن سے کھرچ دیتی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحیض 11 (312)، (تحفة الأشراف: 17575)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة 104 (1055) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح