عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، مُوسَى بْنُ نَجْدَةَ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ أَبُو كَثِيرٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ نَجْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ طَلَبَ قَضَاءَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَنَالَهُ، ثُمَّ غَلَبَ عَدْلُهُ جَوْرَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ غَلَبَ جَوْرُهُ عَدْلَهُ فَلَهُ النَّارُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مسلمانوں کے منصب قضاء کی درخواست کرے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے پھر اس کے ظلم پر اس کا عدل غالب آ جائے تو اس کے لیے جنت ہے، اور جس کا ظلم اس کے عدل پر غالب آ جائے تو اس کے لیے جہنم ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14845) (ضعیف)» (اس کے راوی موسیٰ بن نجدہ مجہول ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن نجدة : مجهول (تق : 7020)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
الحكم: ضعيف