بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3568 — باب: جو شخص دوسرے کی چیز ضائع اور برباد کر دے تو ویسی ہی چیز تاوان میں دے۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: جو شخص دوسرے کی چیز ضائع اور برباد کر دے تو ویسی ہی چیز تاوان میں دے۔ حدیث 3568
حدیث نمبر: 3568 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ ، جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ، قَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" مَا رَأَيْتُ صَانِعًا طَعَامًا مِثْلَ صَفِيَّةَ صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَبَعَثَتْ بِهِ فَأَخَذَنِي أَفْكَلٌ فَكَسَرْتُ الْإِنَاءَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْتُ؟، قَالَ: إِنَاءٌ مِثْلُ إِنَاءٍ، وَطَعَامٌ مِثْلُ طَعَامٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جسرہ بنت دجاجہ کہتی ہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا (اچھا) کھانا پکاتے کسی کو نہیں دیکھا، ایک دن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے کھانا پکا کر آپ کے پاس بھیجا (اس وقت آپ میرے یہاں تھے) میں غصہ سے کانپنے لگی (کہ آپ میرے یہاں ہوں اور کھانا کہیں اور سے پک کر آئے) تو میں نے (وہ) برتن توڑ دیا (جس میں کھانا آیا تھا)، پھر میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ سے جو حرکت سرزد ہو گئی ہے اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: برتن کے بدلے ویسا ہی برتن اور کھانے کے بدلے ویسا ہی دوسرا کھانا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/عشرة النساء 4 (3409)، (تحفة الأشراف: 17827)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/148، 277) (ضعیف)» ‏‏‏‏ اس کی روایہ جسرة لین الحدیث ہیں، صحیح یہ ہے کہ کھانا بھیجنے والی ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں جیسا کہ نسائی کی ایک صحیح روایت (نمبر 3408) میں ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
أخرجه النسائي (3409 وسنده حسن) جسرة بنت دجاجة مختلف فيھا وحديثھا حسن علي الراجح
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (3567) باب پر واپس اگلی حدیث (3569) →