بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3562 — باب: مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟ حدیث 3562
حدیث نمبر: 3562 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيب ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيب، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعًا يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَقَالَ: أَغَصْبٌ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ: لَا، بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذِهِ رِوَايَةُ يَزِيدَ، بِبَغْدَادَ، وَفِي رِوَايَتِهِ بِوَاسِطٍ تَغَيُّرٌ عَلَى غَيْرِ هَذَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حنین کی لڑائی کے دن ان سے کچھ زرہیں عاریۃً لیں تو وہ کہنے لگے: اے محمد! کیا آپ زبردستی لے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں عاریت کے طور پر لے رہا ہوں، جس کی واپسی کی ذمہ داری میرے اوپر ہو گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید کی بغداد کی روایت ہے اور واسط ۱؎ میں ان کی جو روایت ہے وہ اس سے مختلف ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4945)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/401، 6/465) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: واسط عراق کا ایک مشہور شہر ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي في الكبريٰ (5779)
شريك مدلس وعنعن
وللحديث شواھد ضعيفة
وحديث الحاكم (2/ 47) يخالفه وسنده حسن،انظر بلوغ المرام بتحقيقي (754)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 126
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3561) باب پر واپس اگلی حدیث (3563) →