أَبُو كَامِلٍ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حُسَيْنٌ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبَاهُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کسی کو عطیہ دینا جائز نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/ الدیات 3 (1390)، سنن النسائی/ الزکاة 58 (2541)، العمری 1 (3787، 3788)، (تحفة الأشراف: 8680، 8683)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/179، 180، 207، 212)، دی/ الدیات 16 (2417)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (2566) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
أخرجه النسائي (2541 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (3546)
الحكم: حسن صحيح