مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، شَرِيكٍ ، وَقَيْسٌ ، أَبِي حُصَيْنٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ، وَقَيْسٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تمہارے پاس امانت رکھی اسے امانت (جب وہ مانگے) لوٹا دو اور جس نے تمہارے ساتھ خیانت (دھوکے بازی) کی ہو تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/البیوع 38 (1264)، (تحفة الأشراف: 12836، 18623)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع 57 (2639) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: بظاہر اس حدیث اور ہند رضی اللہ عنہا کی حدیث کے مابین اختلاف ہے، لیکن درحقیقت ان دونوں کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ خائن وہ ہے جو ناحق کسی دوسرے کا مال ظلم و زیادتی کے ساتھ لے، رہا وہ شخص جسے اپنا حق لینے کی شرعاً اجازت ہو وہ خائن نہیں ہے، جیسا کہ ہند رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے شوہر ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے مال سے عام دستور کے مطابق لینے کی اجازت دی۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1264)
شريك القاضي عنعن وقيس بن الربيع ضعيف وقال العراقي: ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء 81/4) وقال المناوي: ضعفه الجمھور(فيض القدير119/3ح2835)
وللحديث شواھد كثيرة كلھا ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 125
الحكم: حسن صحيح