أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ هِنْدًا أُمَّ مُعَاوِيَةَ، جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ، رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَإِنَّهُ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَبَنِيَّ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا؟، قَالَ: خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَبَنِيكِ بِالْمَعْرُوفِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہند رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور (اپنے شوہر کے متعلق) کہا: ابوسفیان بخیل آدمی ہیں مجھے خرچ کے لیے اتنا نہیں دیتے جو میرے اور میرے بیٹوں کے لیے کافی ہو، تو کیا ان کے مال میں سے میرے کچھ لے لینے میں کوئی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”عام دستور کے مطابق بس اتنا لے لیا کرو جو تمہارے اور تمہارے بیٹوں کی ضرورتوں کے لیے کافی ہو“۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17261، 16904)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 95 (2211)، المظالم 18 (2460)، النفقات 5 (5359)، 9 (5364)، 14 (5370)، الأیمان 3 (6641)، الأحکام 14 (7161)، صحیح مسلم/الأقضیة 4 (1714)، سنن النسائی/آداب القضاة 30 (5422)، سنن ابن ماجہ/التجارات 65 (2293)، مسند احمد (6/39، 50، 602)، سنن الدارمی/النکاح 54 (2305) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2211) صحيح مسلم (1714)
الحكم: صحيح