مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو دَاوُدَ هُوَ الطَّيَالِسِيُّ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، أَبِي الْمُعْتَمِرِ ، عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ، قَال: أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ، فَقَالَ:" لَأَقْضِيَنَّ فِيكُمْ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَفْلَسَ أَوْ مَاتَ فَوَجَدَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر بن خلدہ کہتے ہیں ہم اپنے ایک ساتھی کے مقدمہ میں جو مفلس ہو گیا تھا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: میں تمہارا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو مفلس ہو گیا، یا مر گیا، اور بائع نے اپنا مال اس کے پاس بعینہ موجود پایا تو وہ بہ نسبت اور قرض خواہوں کے اپنا مال واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3523]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الأحکام 26 (2360)، انظر حدیث رقم: (3519)، (تحفة الأشراف: 14269) (ضعیف)» (اس کے راوی ابو المعتمر بن عمرو بن رافع مجہول ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (2360 وسنده حسن) أبو المعتمر بن عمرو بن رافع وثقه غير واحد بتصحيح حديثه فھو حسن الحديث
الحكم: ضعيف