بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3519 — باب: آدمی مفلس (دیوالیہ) کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حقدار وہی ہو گا۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: آدمی مفلس (دیوالیہ) کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حقدار وہی ہو گا۔ حدیث 3519
حدیث نمبر: 3519 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، مَالِكٍ ، النُّفَيْلِيُّ ، زُهَيْرٌ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ الْمَعْنَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَكَ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مفلس ہو جائے، پھر کوئی آدمی اپنا مال اس کے پاس ہو بہو پائے تو وہ (دوسرے قرض خواہوں کے مقابل میں) اسے واپس لے لینے کا زیادہ مستحق ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الاستقراض 14 (2402)، صحیح مسلم/المساقاة 5 (1559)، سنن الترمذی/البیوع 26 (1262)، سنن النسائی/البیوع 93 (4680)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 26 (4358)، (تحفة الأشراف: 14861)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 42 (88)، مسند احمد (2/228، 47، 49، 258، 410، 468، 474، 508)، دی/ البیوع 51 (2632) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس باب کی احادیث کی روشنی میں علماء نے کچھ شرائط کے ساتھ ایسے شخص کو اپنے سامان کا زیادہ حقدار ٹھہرایا ہے جو یہ سامان کسی ایسے شخص کے پاس بعینہٖ پائے جس کا دیوالیہ ہو گیا ہو، وہ شرائط یہ ہیں: (الف) سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجود ہو، (ب) یا پا جانے والا سامان اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے کافی نہ ہو، (ج) سامان کی قیمت میں سے کچھ بھی نہ لیا گیا ہو، (د) کوئی ایسی رکاوٹ حائل نہ ہو جس سے وہ سامان لوٹایا ہی نہ جا سکے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2402) صحيح مسلم (1559)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3518) باب پر واپس اگلی حدیث (3520) →