بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3510 — باب: ایک شخص نے غلام خریدا اور اسے کام پر لگایا پھر اس میں عیب کا پتہ چلا تو اس کی اجرت خریدار کے ذمہ ہے۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: ایک شخص نے غلام خریدا اور اسے کام پر لگایا پھر اس میں عیب کا پتہ چلا تو اس کی اجرت خریدار کے ذمہ ہے۔ حدیث 3510
حدیث نمبر: 3510 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ ، أَبِي ، مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ غُلَامًا، فَأَقَامَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُقِيمَ، ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدِ اسْتَغَلَّ غُلَامِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا إِسْنَادٌ لَيْسَ بِذَاكَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، وہ غلام جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے پاس رہا، پھر اس نے اس میں کوئی عیب پایا تو اس کا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غلام بائع کو واپس کرا دیا، تو بائع کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام کے ذریعہ کمائی کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خراج (منافع) اس شخص کا حق ہے جو ضامن ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ سند ویسی (قوی) نہیں ہے (جیسی سندوں سے کوئی حدیث ثابت ہوتی ہے) [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/ التجارات 43 (2243)، (تحفة الأشراف: 17243)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/80، 116) (حسن)» ‏‏‏‏ بما قبلہ (مسلم زنجی حافظہ کے کمزور راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني
حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3243)
مسلم بن خالد ضعيف وقال الھيثمي: والجمھور ضعفه (مجمع الزوائد 45/5) وقيل: تابعه خالد بن مھران مختصرًا المرفوع فقط (تاريخ بغداد 8/ 297298) والسند إليه ضعيف
والحديث السابق (الأصل : 3508) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 124
الحكم: حسن لغيره
← پچھلی حدیث (3509) باب پر واپس اگلی حدیث (3511) →