سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا جَائِحَةَ فِيمَا أُصِيبَ دُونَ ثُلُثِ رَأْسِ الْمَالِ". قَالَ يَحْيَى: وَذَلِكَ فِي سُنَّةِ الْمُسْلِمِينَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں راس المال کے ایک تہائی سے کم مال پر آفت آئے تو اسے آفت نہیں کہیں گے۔ یحییٰ کہتے ہیں: مسلمانوں میں یہی طریقہ مروج ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19534) (حسن)»
وضاحت
۱؎: ایک تہائی سے کم نقصان ہو تو قیمت میں مشتری کے ساتھ رعایت نہیں کرتے ہیں، کیونکہ تھوڑا بہت تو نقصان ہوا ہی کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن مقطوع