أَبُو كَامِلٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ ابْتَاعَ مُحَفَّلَةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا مِثْلَ أَوْ مِثْلَيْ لَبَنِهَا قَمْحًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی تھن میں دودھ جمع کی ہوئی (مادہ) خریدے تو تین دن تک اسے اختیار ہے (چاہے تو رکھ لے تو کوئی بات نہیں) اور اگر واپس کرتا ہے، تو اس کے ساتھ اس کے دودھ کے برابر یا اس دودھ کے دو گنا گیہوں بھی دے“۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/التجارات 42 (2240)، (تحفة الأشراف: 6675) (ضعیف)» (اس کا راوی جمیع ضعیف اور رافضی ہے، اور یہ صحیح احادیث کے خلاف بھی ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2240)
صدقة وجميع ضعيفان كما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 123
الحكم: ضعيف