بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3433 — باب: بیچے جانے والے غلام کے پاس مال ہو تو وہ کس کا ہو گا؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: بیچے جانے والے غلام کے پاس مال ہو تو وہ کس کا ہو گا؟ حدیث 3433
حدیث نمبر: 3433 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ بَاعَ عَبْدًا، وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ نَخْلًا مُؤَبَّرًا، فَالثَّمَرَةُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام کو بیچا اور اس کے پاس مال ہو، تو اس کا مال بائع لے گا، الا یہ کہتے ہیں کہ خریدار پہلے سے اس مال کی شرط لگا لے ۱؎، (ایسے ہی) جس نے تابیر (اصلاح) کئے ہوئے (گابھا دئیے ہوئے کھجور کا درخت بیچا تو پھل بائع کا ہو گا الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے (کہ پھل میں لوں گا)۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 90 (2203)، 92 (2206)، المساقاة 17 (2379)، الشروط 2 (2716)، صحیح مسلم/البیوع 15 (1543)، سنن الترمذی/البیوع 25 (1244)، سنن النسائی/البیوع 74 (4640)، سنن ابن ماجہ/التجارات 31 (2210)، (تحفة الأشراف: 6819، 8330)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 7 (10)، مسند احمد (2/6)، سنن الدارمی/البیوع 27 (2603) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی یہ شرط لگائے کہ غلام کے پاس جو مال ہو گا، وہ میرا ہو گا، تو پھر وہ خریدار کو ملے گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2379) صحيح مسلم (1543)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3432) باب پر واپس اگلی حدیث (3434) →