بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3417 — باب: معلم (مدرس) کو تعلیم کی اجرت لینا کیسا ہے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: معلم (مدرس) کو تعلیم کی اجرت لینا کیسا ہے؟ حدیث 3417
حدیث نمبر: 3417 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، بَقِيَّةُ ، بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، عَمْرٌو ، عُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ ، جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ عَمْرٌو، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ، فَقُلْتُ: مَا تَرَى فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: جَمْرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْكَ تَقَلَّدْتَهَا أَوْ تَعَلَّقْتَهَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، لیکن اس سے پہلی والی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں یہ ہے کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے دونوں مونڈھوں کے درمیان ایک انگارا ہے جسے تم نے گلے کا طوق بنا لیا ہے یا اسے لٹکا لیا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5079) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں بقیہ ہیں جو صدوق کے درجہ کے راوی ہیں، یہاں حرف تحدیث کی صراحت ہے، عنعنہ کی حالت میں تدلیس کا اندیشہ ہوتا ہے، نیز مسند احمد (5؍324) ابو المغیرہ نے متابعت کی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی 256)
وضاحت
۱؎: جمہور نے اس کی اجازت دی ہے اور دلیل میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث پیش کی ہے کہ جن کاموں پر تم اجرت لیتے ہو ان میں بہتر اللہ کی کتاب ہے نیز اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جس میں تعلیم قرآن کے عوض عورت سے نکاح کا ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
انظر الحديث السابق (3416)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3416) باب پر واپس اگلی حدیث (3418) →