سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، سَعِيدٍ أَبِي شُجَاعٍ ، عُثْمَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ، قُلْتُ لَهُ: حَدَّثَكُمْ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي شُجَاعٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ:" إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حِجْرِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَجَاءَهُ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلٍ، فَقَالَ: أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلَانَةَ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَقَالَ: دَعْهُ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش ایک یتیم تھا، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم نے اپنی زمین دو سو درہم کے بدلے فلاں شخص کو کرایہ پر دی ہے، تو انہوں نے (رافع نے) کہا: اسے چھوڑ دو (یعنی یہ معاملہ ختم کر لو) کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/المزارعة 3 (3958)، (تحفة الأشراف: 3569) (شاذ)» (اس کے راوی عثمان (جن کا صحیح نام عیسیٰ ہے) لین الحدیث ہیں، اس میں شذوذ یہ ہے کہ اس میں مطلق زمین کرایہ پر دینے کی بات ہے، حالانکہ ابو رافع سے سونا چاندی اور درہم و دینار کے بدلے کرایہ پر دینے کی اجازت مروی ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3958)
وقال : عيسي بن سهل بن رافع،ابن سهل بن رافع : لم يوثقه غير ابن حبان وقال الحافظ في التقريب (5296) :’’ مقبول ‘‘ أي مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
قَالَ أَبُو دَاوُد
الحكم: شاذ