مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، سُفْيَانُ ، أَبُو حُصَيْنٍ ، شَيْخٍ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً، فَاشْتَرَاهَا بِدِينَارٍ وَبَاعَهَا بِدِينَارَيْنِ، فَرَجَعَ فَاشْتَرَى لَهُ أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ، وَجَاءَ بِدِينَارٍ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَصَدَّقَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَعَا لَهُ أَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي تِجَارَتِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایک دینار دے کر بھیجا کہ وہ آپ کے لیے ایک قربانی کا جانور خرید لیں، انہوں نے قربانی کا جانور ایک دینار میں خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا پھر لوٹ کر قربانی کا ایک جانور ایک دینار میں خریدا اور ایک دینار بچا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے صدقہ کر دیا اور ان کے لیے ان کی تجارت میں برکت کی دعا کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3386]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3438)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 34 (1257) (ضعیف)» (اس کے ایک راوی شیخ من أہل المدینہ مبہم ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1257)
شيخ من أھل المدينة : لعله حبيب بن أبي ثابت كما في سنن ا لترمذي (1257) وھو مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 121
الحكم: ضعيف