الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ وَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ، أَنْ يَشْتَمِلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يَضَعُ طَرَفَيِ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، وَيُبْرِزُ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ، وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ، وَلَا يَنْشُرُهُ، وَلَا يُقَلِّبُهُ، فَإِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی بواسطہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ اشتمال صماء یہ ہے کہ ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لے، اور کپڑے کے دونوں کنارے اپنے بائیں کندھے پر ڈال لے، اور اس کا داہنا پہلو کھلا رہے، اور منابذہ یہ ہے کہ بائع یہ کہے کہ جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں تو بیع لازم ہو جائے گی، اور ملامسہ یہ ہے کہ ہاتھ سے چھو لے نہ اسے کھولے اور نہ الٹ پلٹ کر دیکھے تو جب اس نے چھو لیا تو بیع لازم ہو گئی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4154) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
أخرجه البيھقي (5/342) واختصره البخاري (2147)
الحكم: صحيح