نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَصَابَ رَجُلًا جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ احْتَلَمَ، فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہو گیا، تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں مارے، کیا لاعلمی کا علاج مسئلہ پوچھ لینا نہیں تھا؟“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«أخرجہ ابن ماجہ موصولاً برقم (572)، (تحفة الأشراف: 5972)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة 69 (779) (حسن)»
وضاحت
بغیر علم کے فتویٰ نہیں دینا چاہیے۔ چاہیے کہ اصحاب علم سے مراجعہ کیا جائے۔ زخم پر پٹی باندھ کر مسح کیا جائے اور اس مسح کے لیے موزوں والی کوئی شرط نہیں ہے کہ پہلے وضو کیا ہو یا وقت متعین ہو۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
مشكوة المصابيح (532)
الأوزاعي سمعه من عطاء وسمعه من رجل عنه وللحديث طرق أخريٰ عند البيھقي (1/226، 227، فيه بشر بن بكر وھو ثقه)
الحكم: حسن