بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3366 — باب: عرایا کی تفسیر۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: عرایا کی تفسیر۔ حدیث 3366
حدیث نمبر: 3366 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَبْدَةَ ، ابْنِ إِسْحَاق
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاق، قَالَ:" الْعَرَايَا أَنْ يَهَبَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ النَّخَلَاتِ، فَيَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يَقُومَ عَلَيْهَا، فَيَبِيعُهَا بِمِثْلِ خَرْصِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ عرایا یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کو چند درختوں کے پھل (کھانے کے لیے) ہبہ کر دے پھر اسے اس کا وہاں رہنا سہنا ناگوار گزرے تو اس کا تخمینہ لگا کر مالک کے ہاتھ تر یا سوکھے کھجور کے عوض بیچ دے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19285) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: عریہ کی مختلف تعریفات ہیں: (۱) جو حدیث نمبر (۳۳۶۲) کے تحت گزری۔ (۲،۳) عبدربہ کی دو تعریفیں جو نمبر (۳۳۶۵) میں مذکور ہوئیں۔ (۴) ابن اسحاق کی یہ تعریف، پہلی تعریف امام مالک نیز دیگر بہت سے ائمہ سے منقول ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد مقطوع
← پچھلی حدیث (3365) باب پر واپس اگلی حدیث (3367) →